Urdu poetry on eyes beautifully describes the charm, emotions, and silent language that eyes can express. In poetry, eyes are often seen as a mirror of the heart, revealing feelings like love, sadness, hope, and longing without the need for words. Poets use soft and imaginative language to show how powerful and expressive a person’s eyes can be.

This type of poetry often compares eyes to stars, oceans, or deep mysteries that hold countless emotions. Through poetic lines, writers describe how a single glance can express love, attraction, or even heartbreak. Urdu poetry on eyes captures the beauty and depth of these emotions, making the verses feel romantic and meaningful.

Urdu poetry on eyes also reflects the artistic beauty of Urdu literature and its rich tradition of expressing feelings through symbolism. These poems remind readers that sometimes eyes speak louder than words. With simple yet powerful expressions, such poetry celebrates the emotional depth and elegance that eyes bring to human connections. Urdu Poetry On Eyes​ 2 Lines | Urdu Poetry On Eyes​ By Ghalib | Urdu Poetry On Eyes​ Love | Urdu Poetry On Eyes​ Copy Paste | Poetry On Eyes​ in Urdu 2 Lines

Urdu Poetry On Eyes​

Urdu Poetry On Eyes​
‏آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا نہ کیجئے
سب دیکھتے ہیں آپ کو ایسا نہ کیجئے
اب یہ حسرت ہے کہ سینے سے لگا کر تجھ کو
اس قدر رووں کہ آنکھوں میں لہو آ جائے
شاید تو کبھی پیاسا میری طرف لوٹ آئے فراز
آنکھوں میں لیے پھرتا ہوں دریاتیری خاطر
اس کو دیکھ لیتی تھی تو بھوک مٹ جاتی تھی
میری آنکھوں کا رزق تھا میرے یار کا چہرہ
وہ جسے نیند کہاکرتے ہیں سب ،چین کی نیند
وہ تیرے بعد کبھی آنکھ میں اتری ہی نہیں
وہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں ہیں آنکھیں
ہیں میں ان میں ڈوب گیااعتبار کرتے ہوئے
پھر نہ کیجئے میری گستاخ آنکھوں کا گلہ
دیکھئے آپ نے پھر پیار سے دیکھا ہے مجھ کو
جزبات کے ہر بَاب کا عُنوان ہیں آنکھیں
غالب کی غزل میر کی دیوان ہیں آنکھیں
بڑے وثوق، دلیلوں کے ساتھ کرتی ہے
زباں دراز وہ آنکھوں سے بات کرتی ہے
کیا کروں تجھ سے خیانت نہیں کر سکتا میں
ورنہ اس آنکھ میں میرے لیے کیا کچھ نہیں تھا
ادا ہے ،خواب ہے ،تسکین ہے، تماشا ہے
ہماری آنکھ میں اک شخص بے تحاشا ہے
تم تو لکھتے رہے میری آنکھوں پہ غزلیں
تم نے کبھی پوچھا نہیں کے روتے کیوں ہو
تیری خوشبو نے مری آنکھ کو بینائی دی
تیرے ہونے نے بتایا کہ نظر آتا ہے…
میری آنکھوں سے چھین کر نیندیں
اس نے دی ہے دعا سکوں کی مجھے
دیوانہ کردیا اُس نے ایک بار دیکھ کر
ہم کچھ بھی نہ کر سکے مسلسل دیکھ کر
تیری آنکھوں پہ شعر لکھنے کو
کتنی غزلوں کی جان لی میں نے
ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں
صرف آنکھوں پر ہی ایک زمانے لگ جائیں.
نظر نے نظر کو نظر بھر کے دیکھا
نظر کو نظر کی نظر لگے گئی
کچھ یاد کر کے آنکھ سے آنسو نکل پڑے
مدت کے بعد گزرے جو اس کی گلی سے ہم
اس کی آنکھیں سوال کرتی ہیں
اور میری ہمت جواب دے جاتی ہے
جو انکی آنکھوں سے بیان ہوتے ہیں
وہ لفظ شاعری میں کہاں ہوتے ہیں
ہم نے دیکھا ہے بہت غور سے
تیرے چہرے پہ تیری آنکھیں کمال کرتی ہیں
ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں
لیکن زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں
رخسار کا پتہ نہیں آنکھیں رو خوب ہیں
دیدار بھی نقاب سے آگے نہیں بڑھتا
تیری آنکھیں بتا رہی ہیں سب
کیا ضرورت ہے مسکرانے کی
نگاہ لطیف کے امیدوار ہم بھی ہیں
کبھی ملاؤ تو ہم سے بھی مہربان آنکھیں
پرونا نہیں ہمیں آنکھوں میں انتظار
بس کہہ دیا نہ! آپ کو کھونا نہیں ہمیں
ہم نے دیکھا ہے بہت غور سے
تیرے چہرے پہ تیری آنکھیں کمال کرتی ہیں
چلو آنکھیں ملا کر دیکھتے ہیں
کون کتنا اُداس رہتا ہے
آنکھوں سے دور ہی سہی دل سے کہاں جاؤ گے
جانے والے تم ہمیں بہت یاد آؤ گے
طلب ہوتی جب تیرے دیدار کی
ہم دونوں آنکھیں بند کر لیتے ہیں
جو انکی آنکھوں سے بیان ہوتے ہیں
وہ لفظ شاعری میں کہاں ہوتے ہیں

1 COMMENT

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here